ہر سال رمضان کے آغاز سے پہلے پاکستان کی وفاقی حکومت سرکاری دفاتر، بینکوں اور تعلیمی اداروں کے اوقات میں تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے۔ ۲۰۲۶ میں بھی یہی عمل دہرایا گیا — رمضان ۱۴۴۷ ہجری کے دوران اوقات کار میں کمی کی گئی تاکہ ملازمین روزے اور عبادت میں سہولت محسوس کریں۔
سرکاری دفاتر کے اوقات — رمضان ۲۰۲۶
وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق:
پانچ روزہ ورکنگ والے دفاتر
- پیر تا جمعرات: صبح ۹:۰۰ سے دوپہر ۳:۰۰ بجے تک
- جمعہ: صبح ۹:۰۰ سے دوپہر ۱۲:۳۰ بجے تک
چھ روزہ ورکنگ والے دفاتر
- پیر تا جمعرات: صبح ۹:۰۰ سے دوپہر ۲:۰۰ بجے تک
- جمعہ: صبح ۹:۰۰ سے دوپہر ۱۲:۳۰ بجے تک
- ہفتہ: صبح ۹:۰۰ سے دوپہر ۲:۰۰ بجے تک
بینک اور مالیاتی ادارے
- عملے کے اوقات: صبح ۹:۰۰ سے دوپہر ۳:۰۰ بجے تک
- عوامی کاروبار: صبح ۹:۰۰ سے دوپہر ۲:۰۰ بجے تک
- جمعہ: صبح ۹:۰۰ سے دوپہر ۱۲:۳۰ بجے تک
نجی شعبے میں کیا ہوتا ہے
نجی کمپنیوں کے لیے کوئی لازمی حکومتی حکم نہیں ہوتا مگر زیادہ تر ادارے خود بخود اوقات کم کر دیتے ہیں۔ عام طور پر ۱ سے ۲ گھنٹے کی کمی ہوتی ہے — بہت سے دفاتر صبح ۸:۳۰ سے دوپہر ۲:۳۰ تک کا شیڈول اپناتے ہیں تاکہ ملازمین گرمی شروع ہونے سے پہلے گھر پہنچ سکیں۔ IT کمپنیوں میں کچھ جگہوں پر لچکدار اوقات بھی ہوتے ہیں جہاں ملازم اپنے ۶ گھنٹے خود تقسیم کر سکتے ہیں۔
روزے کے دوران کام میں توانائی کیسے برقرار رکھیں
صبح کے ابتدائی گھنٹے سب سے اہم ہیں
رمضان میں صبح ۹ سے ۱۱ بجے تک توانائی نسبتاً بہتر ہوتی ہے۔ اس وقت اہم ترین اور ذہنی محنت والے کام نمٹائیں — ای میلز، رپورٹیں، فیصلے۔ دوپہر کو تھکاوٹ بڑھتی ہے تو ہلکے کام (فائلنگ، منظوری، میٹنگز) اس وقت کے لیے رکھیں۔
پومودورو طریقہ
۲۵ منٹ مکمل توجہ سے کام کریں، پھر ۵ منٹ کا وقفہ لیں۔ یہ طریقہ ذہنی تھکاوٹ کم کرتا ہے اور توجہ برقرار رکھتا ہے۔ ہر ۴ چکروں کے بعد ۱۵ سے ۲۰ منٹ کا لمبا وقفہ لیں۔ یہ خاص طور پر کمپیوٹر پر کام کرنے والوں کے لیے مؤثر ہے۔
دفتر میں ماحول
ایئر کنڈیشننگ اور روشنی کا مناسب انتظام تھکاوٹ کم کرتا ہے۔ اگر دفتر میں قیلولے کی سہولت ہو تو ظہر کی نماز کے بعد ۱۵ منٹ کی جھپکی فائدہ مند ہے۔ پانی کے کولر کے پاس نہ بیٹھیں — خوشبو اور آواز توجہ بھٹکاتی ہے۔
روزے داروں کے لیے میٹنگز کا بہتر وقت
صبح ۱۰ بجے کے بعد اور دوپہر ۱ بجے سے پہلے میٹنگز رکھنا سب سے مناسب ہے۔ اس وقت زیادہ تر لوگ ذہنی طور پر تازہ ہوتے ہیں۔ دوپہر ۲ بجے کے بعد میٹنگ سے گریز کریں — تھکاوٹ اور سردرد میں اضافے کا وقت ہوتا ہے۔ ویڈیو کالز مختصر رکھیں — ۳۰ منٹ سے زیادہ نہ ہوں۔
افطار کے بعد پیشہ ورانہ ذمہ داریاں
بعض شعبوں میں (خاص طور پر میڈیا، ہسپتالوں اور ایمرجنسی خدمات) رات کو بھی کام جاری رہتا ہے۔ افطار کے بعد ہلکا کھانا کھائیں — بہت بھاری کھانا سستی کا باعث بنتا ہے۔ تراویح کے بعد اگر کام کرنا ہو تو رات ۱۱ بجے تک فارغ ہو جانے کی کوشش کریں تاکہ نیند کا شیڈول خراب نہ ہو۔
نوٹ: اوقات کار سال بہ سال حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق تبدیل ہو سکتے ہیں۔ درست ترین معلومات کے لیے وزارت داخلہ کی سرکاری ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
مزید پڑھیں: رمضان میں نیند کا توازن کیسے برقرار رکھیں | گھریلو ذمہ داریوں کا بہتر انتظام رمضان میں