رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی پاکستان بھر میں لاکھوں لوگوں کا نیند کا شیڈول یکسر بدل جاتا ہے۔ فجر سے پہلے سحری کے لیے بیدار ہونا، دن بھر روزہ رکھنا، اور عشاء کے بعد تراویح ادا کرنا — یہ سب مل کر رات کی نیند کو چار سے پانچ گھنٹوں تک محدود کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں فروری ۲۰۲۶ میں سحری کا وقت تقریباً صبح ۵ بجے کے قریب تھا جبکہ تراویح رات ساڑھے نو بجے تک جاری رہتی ہیں — اس حساب سے مسلسل نیند کے لیے صرف ساڑھے چھ گھنٹے بچتے ہیں، اگر فوراً سو جائیں تو۔
سرکیڈین ردھم کیا ہے اور رمضان میں کیسے بدلتا ہے
انسانی جسم کی اندرونی گھڑی (سرکیڈین ردھم) روشنی اور اندھیرے کے چکر سے منظم ہوتی ہے۔ عام دنوں میں صبح سورج نکلنے پر جسم بیدار ہونے کے ہارمون (کارٹیسول) خارج کرتا ہے اور رات کو اندھیرے میں نیند لانے والا ہارمون (میلاٹونین) بنتا ہے۔ رمضان میں فجر سے پہلے اٹھنا اور عشاء کے بعد سونا — یہ قدرتی چکر بدل دیتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ سات سے نو گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ رمضان میں جب نیند مسلسل کم ہو تو تھکاوٹ، چڑچڑاپن، یادداشت میں کمزوری اور کام میں غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
رمضان سے پہلے نیند کا شیڈول بتدریج تبدیل کریں
بہت سے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ رمضان شروع ہونے سے دو ہفتے پہلے آہستہ آہستہ شیڈول تبدیل کرنا بہتر ہوتا ہے:
- ہر روز ۱۵ سے ۲۰ منٹ پہلے سونے اور اٹھنے کی عادت ڈالیں
- سحری کے وقت کھانا کھانے کی مشق شروع کریں تاکہ جسم تیار ہو
- سونے سے پہلے اسکرین کا وقت کم کریں — نیلی روشنی میلاٹونین کو دبا دیتی ہے
- ہلکی زرد روشنی والے بلب استعمال کریں
رمضان کے دوران بہتر نیند کے عملی طریقے
فجر کے بعد مختصر نیند
سحری اور فجر کی نماز کے بعد اگر ۲۰ سے ۳۰ منٹ کی نیند لی جائے تو یہ پورے دن کی توانائی میں نمایاں فرق ڈال سکتی ہے۔ کمرے کے پردے بند کریں تاکہ سورج کی روشنی نیند میں خلل نہ ڈالے۔ البتہ اس مختصر نیند کو ایک گھنٹے سے زیادہ نہ بڑھائیں ورنہ رات کی نیند متاثر ہو سکتی ہے۔
ظہر کے بعد قیلولہ
ظہر کی نماز کے بعد ۱۵ سے ۲۰ منٹ کی جھپکی (پاور نیپ) ذہنی تازگی بحال کرتی ہے۔ الارم لگائیں تاکہ نیند لمبی نہ ہو جائے۔ یہ بہت سے ملکوں میں رمضان کے دوران عام رواج ہے۔
سونے سے پہلے کا معمول
- تراویح کے بعد ۱۰ منٹ سانسوں کی مشق یا ذکر — ۴ سیکنڈ سانس اندر، ۴ سیکنڈ روکیں، ۶ سیکنڈ باہر
- سونے سے ایک گھنٹہ پہلے تمام اسکرینز (موبائل، لیپ ٹاپ، ٹی وی) بند کریں
- کمرے کا درجہ حرارت ٹھنڈا رکھیں — پنکھا یا اے سی استعمال کریں
- ہلکی پڑھائی یا ذکر و اذکار ذہن کو پرسکون کرتے ہیں
غذا اور کیفین کا کردار
سحری میں پروٹین اور فائبر والی غذا (دہی، انڈے، دالیں، ثابت اناج) دیر تک توانائی دیتی ہے۔ بھاری، تلی ہوئی اور بہت میٹھی اشیاء سے پرہیز کریں — یہ دن بھر سستی اور نیند کی خلل کا باعث بنتی ہیں۔ دوپہر کے بعد چائے اور کافی نہ لیں کیونکہ کیفین نیند آنے میں ۳ سے ۶ گھنٹے تک خلل ڈال سکتی ہے۔
قدرتی روشنی کا کردار
دن کے کسی حصے میں سورج کی روشنی میں وقت گزاریں — یہ جسم کی اندرونی گھڑی کو منظم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ خاص طور پر صبح کے وقت ۱۵ سے ۲۰ منٹ قدرتی روشنی میں رہنا (چاہے کھڑکی کے پاس ہی ہوں) جسم کو بیداری کے وقت کا اشارہ دیتا ہے اور رات کو میلاٹونین کی پیداوار بہتر ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مواد عمومی معلومات پر مبنی ہے اور طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ نیند کے سنگین مسائل کی صورت میں اپنے معالج سے مشورہ ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: دفتری اوقات اور روزے کے دوران کام کا شیڈول | گھریلو ذمہ داریوں کا بہتر انتظام رمضان میں